Raja Gidh – Kamal

وہ محبت کے ترازو میں برابر کا تلنا چاہتی تھی اور دوسری طرف مجھے کوئی ایسا بٹہ رکھنا نہیں آتا تھا جس کی وجہ سے اس کا توازن ٹھیک ہو جاتا۔

بات یہ ہے سر جی کہ جب محبت مل رہی ہوتی ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ کبھی محبت دینی بھی پڑے گی

مانگی ھوئی محبت کا مزہ بگڑی ھوئی شراب جیسا ھوتا ھے

بات یہ ہے سر جی کہ جب محبت مل رہی ہوتی ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ کبھی محبت دینی بھی پڑے گی

محبت پانے والا کبھی اس بات پر تو مطمئن نہیں ہو جاتا کہ اسے ایک دن کے لۓ مکمل طور پر ایک شخص کی محبت حاصل ہوئ تھی۔ محبت و قیوم ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے۔ جب تک روز اس تصویر میں رنگ نہ بھرو تصویر فیڈ کرنے لگتی ہے جیسے ۔۔ ۔جیسے روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جس روز محبت آفتاب طلوع نہ ہو رات رہتی ہے

میں نے دیوانگی کا راز پا لیا ہے قیوم اور وہ ہے تغیر نوع یا mutation سادہ طور پر سمجھ لو کہ جب کبھی evolution ہوتی ہے کوئی specie بدلتی ہے اس کی وجہ سے gene mutation ہوتی ہے۔ ارتقاء انسانی کےلیے ضروری ہے کہ ہمارے میں تبدیلی ہو۔ ہر نئی پود پچھلی سے مختلف ہو۔۔۔ یہ تبدیلیاں ابھی مکمل طور پر دریافت نہیں ہو سکیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ ساری تبدیلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ genes پوری طرح تغیر پذیر ہوں تو ارتقاء ہوتا ہے ٹوٹ پھوٹ ہو جاۓ تو دیوانہ پن پیدا ہوتا ہے۔
مغرب کے پاس حرام حلال کا تصور نہیں ہے اور میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی genes کو متاثر کرتا ہے رزق حرام سے ایک خاص قسم کی mutation ہوتی ہے جو خطرناک ادویات،شراب اور radiation سے بھی زیادہ مہلک ہے رزق حرام سے جو genes تغیر پذیر ہوتے ہیں وہ لولے،لنگڑے اور اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ ناامید بھی ہوتے ہیں نسل انسانی سے۔ یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان genes کے اندر ایسی ذہین پراگندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ یقین کر لو رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے۔ اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔

یاد رکھو ابھی مغرب والے یہاں تک نہیں پہنچے ۔۔۔ جب ہم سور کا گوشت نہیں کھاتے تو وہ حیران ہوتے ہیں۔ جب ہم بکرے پر تکبیریں پڑھ کر اسے حلال کرتے ہیں تو وہ تعجب سے دیکھتے ہیں۔ جب ہم عورت سے زنا نہیں کرتے نکاح پڑھ کر اسے اپنے لیۓ حلال بناتے ہیں تو وہ سمجھ نہیں سکتے ۔۔۔۔ بھائی میرے کیسے سمجھیں حرام حلال کا تصور انسانی نہیں ہے اس لیۓ ۔۔۔ اس میں بھید ہے گہرا بھید “جین میوٹیشن” کا ۔۔۔ حرام حلال کی حد سب سے پہلے بہشت میں لگائی تھی اللہ نے

بھابھی ! کچھ لوگ معاشرے کے قابل نہیں ہوتے۔ معاشرے کے مطابق نہیں رہتے، جیسے کچھ جانور جنگل میں رہ کر جنگل لاء کے تحت زندگی بسر نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو محبت کی تلاش ہوتی ہے ، لیکن وہ محبت کے اہل نہیں ہوتے شادی کی نہ انہیں خواہش ہوتی ہے نہ ضرورت۔ ۔ بھابھی تم ہمیں کرگس جاتی لوگوں کو حلال کھانے پر کیوں مجبور کر رہی ہو ۔ ہم تو جنم جنم سے مردار پر پلے ہیں، ہمیں حلال سے کیا غرض؟

میں جانتا ہوں کہ صرف انسان ساکت ہے کائنات کی باقی تمام اشیا متحرک ہیں کیونکہ انسان مطلوب ہے اور باقی ہر شے طالب ۔ ۔ ۔ افسوس انسان نے اپنے آپ کو مطلوب کی جگہ سے ہٹا کر طالب بنا لیا ہے اسی لیے گردش میں ہے ورنہ وہ اس قدر دیوانے پن کا شکار نہ ہوتا اور اب تک اللہ کی رضا کو پا لیتا۔”

شادی کا خوشی سے اور محبت کا اختیار سے کوئ تعلق نہیں۔ ۔ ۔ ۔ حقوق و فرائض کا وارفتگی سے کیا ناطہ؟

قیوم! آگے جانے والے پیچھے رہے ہوۓ لوگوں کی طرح کبھی یاد نہیں کرتے ۔ گھر سے بندھی ہوۂی گاۓ اور طرح یاد کرتی ہے اور تانگے میں جتا ہوا گھوڑا اور طرح سے یاد کرتا ہے۔ جس کو کچھ مل جاۓ اچھا یا برا ۔ ۔ اس کی یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے. جن کو سب کچھ کھو کر اس کا ٹوٹاپھوٹا نعم البدل بھی نہ ملے ان کا حافظہ بہت تیز ہو جاتا ہے اور ہر یاد بھالے کی طرح اترتی ہے دل میں ۔ ۔ ۔ سیمی ۔ ۔ ۔ اور میری سچیویشن میں بہت فرق ہے قیوم۔

خوبی وہ چیز ہے جس پر انسان خود اعتماد کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ خوبی اس ک اصلی اچھاۂیوں کو کھانے لگتی ہے اسی خوبی کی وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسی خوبی کے باعث وہ انسانیت سے گرنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ فرد ۔ ۔ ۔ ۔ قومیں سب اپنی خوبیوں کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں۔

زندگی سے موت تک کئ راستے ھیں۔ جس راستے پر بھی پڑ جاؤ قیوم اس کی کچھ راحتیں ھیں۔ اس میں کچھ تکلیفیں پیش آتی ھیں۔ کچھ اس راہ پر چلنے کے تمغے ھوتے ھیں کچھ قیمتیں ادا کرنا پڑ تی ھیں دراصل کوئ راہ اختیار کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی راستے پر پڑ جاؤ ۔۔۔۔۔ وقفہ اتنا لمبا ہے کہ مسافروں کا سانس اکھڑے ہی اکھڑے۔

Advertisements

Published by

Muhammad Haider Miraj

A person on the journey of self exploration & learning/development. Time and pain have been my teachers and mentor they made me believe that whatsoever happens, happens for the reason - its gives you learning and add value to yourself. Nature and Spirit helped me connecting within and connect the dots to enhance and and enrich the Faith. Aksr lafz insan ko khokhla bna dete hain jab insan kahe kuch aur .........kere kuch aur..... shaied main b khokhla hogya aur khud ki shanakht se bhagne wale kisi ko shanakht ne de skte. Shaied jo ap parhe wo ap ki zat ka ansar bhi hun q k hain to hum sab ik k hi jaye bus ab khaul mukhtalif pehn liye hain aur ye tehreerein khol walo k liye ne humare asal k liye hain. Duaon ka talib Haider Miraj

2 thoughts on “Raja Gidh – Kamal”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s