Letter to Wardah – My better half

بہت پیاری وردہ!
لاءلپور

تمہیں خط لکھنے کے لیے آج سے بڑھ کر اور کونسا دن ہوتا.. بتاؤ بھلا؟ شکر ہے آسمانوں پہ زمینوں جیسی مجبوریوں کی ہتھ کڑیاں نہیں ہیں.. تم جانتی ہو حیدر مجھے اکثر خط لکھتا ہے اور رلا بھی دیتا ہے.. سوچا آج میں بھی لکھ ڈالوں.. حیدر کو اس لیے نہیں لکھ رہی کہ اسکی دیوار پہ ویسے ہی بہت ہجوم رہتا ہے جس سے مجھے الجھن ہوتی ہے.. معلوم نہیں تمہیں ہجوم بھاتا ہے یا نہیں.. مگر اب تو نصیب میرے بیٹے سے جڑ گیا ہے سو سنبھال لینا

بیٹیاں عجب شے ہوتی ہیں.. جب گھر میں ہوتی ہیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کیا کچھ گھر میں صرف ان ہی کی وجہ سے ہے.. اور جب چلی جاتی ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کے بغیر تو گھر میں جیسے کچھ تھا ہی نہیں.. اور تم تو ہم سب کی امید ہو.. رات جب تم نے مجھے ہاتھ پاؤں پہ لگی مہندی دکھائی تو میرے دل سے دعا نکلی کہ خدا تمہارا مقدر بہت روشن رکھے اور تم میرے آنگن کے لیے بہت نیک ثابت ہو.. آسمانوں پہ وقت جیسی کوئی چیز نہیں اس لیے نہیں معلوم وہاں ابھی کیا ہوا چاہتا ہے مگر شاید تم ابھی سج رہی ہوگی.. میرے بیٹے کے لیے.. حیدر کے لیے..

میں دیکھ رہی تھی جیسے جیسے شادی قریب آرہی تھی ہر لڑکی کی طرح تمہاری اداسی اور اندیشے بڑھ رہے تھے..مگر کیا یہ خوش ہونے کے لیے کافی نہیں کہ تم اپنوں میں جا رہی ہو؟ میرے گھر آرہی ہو.. میں نے کہا تھا ناں نکاح کے بندھن میں بندھتے ہی تمہیں سکون آجاءے گا. جیسے دھوپ میں سر پہ کوئی بادل کا ٹکڑا آ کھڑا ہو.. سایہ دینے والا.. اپنے اندر چھپا لینے والا..ٹھنڈا.. نرم.. سکون دینے والا..
اچھی واردہ!
محبت یا شادی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم ایک دوسے کو اپنے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں بند کر کے رکھنا شروع کر دیں..اس سے رشتے مظبوط نہیں ہوتے, دم گھٹنے لگتا ہے.. ایک دوسرے کو اسپیس دینا, ایک دوسرے کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرنا, ایک دوسرے کی آزادی کے حق کا احترام کرنا بے حد ضروری ہے.. بیٹا امید کو ڈھونڈا نہیں جاتا, امید کو رکھا جاتا ہے..اپنے اندر, اپنے دل میں, اپنے ذہن میں.. چند دنوں میں بیج زمین کی مٹی سے باہر آ تو جاتا ہے مگر درخت بننے میں بہت دیر لگتی ہے..لیکن وہ درخت بنت ضرور ہے..اگر اسے پانی دیا جاتا رہے..اگر مٹی کو نرم رکھا جائے.. بیٹا ہمیشہ یاد رکھنا صفر کی طرح زندگی بسر کرو, جسکی ضرورت ہر عدد کو ہوتی ہے.. جس کے ساتھ لگے اسکی قدروقیمت کیء گناہ بڑھا دیتا ہے..جب ہم صفر ہوتے ہیں تب بھی بہت قیمتی ہوتے ہیں..اس کائنات میں کچھ بھی بیکار نہیں ہے..اور ویسے بھی ہر گنتی کا آغاز بھی تو صفر سے ہی ہوتا ہے ناں!
تم جس گھر کو جا رہی ہو اسکی بنیادوں میں میری محبت جسم میں دوڑتے خون کی مانند شامل ہے.. میں نے بہت محنت اور محبت سے اس مکان کو گھر بنایا.. ایسا گھر جو مثالی ہو.. ہر آنے والے کو میری مامتا کے جیسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لے اور روح کا سا سکون میسر کرے.. میرے سارے بچے آج اپنی اپنی جگہ سرخرو ہیں.. زاءرہ نے میرے بعد گھر سے محبت رخصت نہ ہونے دی.. میری دونوں بہوؤں نے میرے گھر کو خوشیوں سے بھرا اور سب کو جوڑے رکھا.. مجھے ان سب پر مان ہے..میرے یہاں آنے کے بعد یوں تو سب ہی تنہا ہوئے مگر افضال صاحب اور حیدر نے یہ سزا سب سے زیادہ کاٹی.. میرا تم پہ یقین ہے کہ تم یہ خلا بھر دوگی میری گڑیا!
کوئی بھی شادی فیری ٹیل نہیں ہوتی.. اور اگر ہوتی ہے تو یہ وہ فیری ٹیل ہے جس میں ایک جن ضرور ہوتا ہے اور اس جن کے ساتھ سمجھداری سے چلنا پڑتا ہے.. عورت کے پاس اسکے علاوہ کبھی کوئی آپشن رہا ہی کب ہے.. تم بھرپور کوشش کرنا کہ تم دونوں کے بیچ کبھی زیادہ خاموشی نہ آءے.. میاں بیوی کے درمیاں بات چیت ہوتی رہنا چاہیے۔ عورت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مرد کو ضرورت سے زیادہ بہادر سمجھتی ہے..اس وقت بھی جب وہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے رہا ہوتا ہے..بیٹا مرد ہو یا عورت کوئی بھی زندگی کے ہر لمحے میں بہادر نہیں رہ سکتا.. بہت ساری چیزیں انسان کو کمزور کر دیتی ہیں.. مگر کمزور لمحوں میں تسلی کے لفظ بولنے والا انسان کے دل کے بہت قریب رہتا ہے.. اور اگر وہ بیوی ہو تو رشتہ بہت گہرا ہوجاتا ہے.. ماں چاہے کتنی ہی عظیم ہو بہٹا مگر وہ کبھی بیوی نہیں بن سکتی.. دیکھو خدا نے یہ کرم حیدر کی زندگی میں آنے والی کسی اور ہمجولی کے نصیب میں نہیں لکھا.. وہ میرا لاڈلا اور بگڑا ہوا بیٹا ہے تم اسے بتانا کہ تم اسے کتنا یاد کرتی ہو.. کہ تم اسکا کتنا انتظار کرتی ہو.. کہ تم زندگی کی اس کٹھن راہگزر میں اس کی ہمیشہ کی سہیلی رہوگی!
دیکھو زرا! میں لکھنے بیٹھی تو لکھتی چلی گئی.. دھیان ہی نہیں رہا.. میں اپنے ہمسفر اور اپنے بیٹوں جیسا اچھا خط تو نہیں لکھ سکتی.. ان کے ذہنوں سے تو تاثیر کی شاخیں پھوٹتی ہیں اور خوبصورت الفاظ پرندوں کی طرح ان پر آ بیٹھتے ہیں.. مگر یہ بے ربط خط جزبے کی اس صداقت کے ساتھ لکھا ہے جس پہ میرا کبھی اختیار نہیں رہا.. اور زنگی بے ربط ہی تو ہے.. ہم کہاں بھلا اپنی ذندگیاں خود لکھتے ہیں.. تمہارا میرا رشتہ ہمیشہ یونہی سہیلیوں جیسا رہے گا.. تم ہمارہ بہترین انتخاب ہو.. میں بہت خوش ہوں.. اور یہ احساسات کسی عالم بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یونہی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں..
یہاں سب اچھا ہے.. تم دلہن کے روپ میں بے پناہ خوبصورت لگ رہی ہو.. صہیب یقیناً تمہارا صدقہ اتار دیگا.. اپنی آنکھوں اور دل کو یونہی پاکیزہ رکھنا.. میرے گھر کا خیال رکھنا.. میرے رشتوں کا خیال رکھنا.. اور ہاں.. پودوں کو پانی اور میرے گھر کا صدقہ اپنے ہاتھ سے دیا کرنا..میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہینگی.. میرے بچے ہمیشہ تمہارے ساتھ رہینگے..

بہت پیار,
امی,
کہیں آسمانوں میں..

Advertisements

Published by

Muhammad Haider Miraj

A person on the journey of self exploration & learning/development. Time and pain have been my teachers and mentor they made me believe that whatsoever happens, happens for the reason - its gives you learning and add value to yourself. Nature and Spirit helped me connecting within and connect the dots to enhance and and enrich the Faith. Aksr lafz insan ko khokhla bna dete hain jab insan kahe kuch aur .........kere kuch aur..... shaied main b khokhla hogya aur khud ki shanakht se bhagne wale kisi ko shanakht ne de skte. Shaied jo ap parhe wo ap ki zat ka ansar bhi hun q k hain to hum sab ik k hi jaye bus ab khaul mukhtalif pehn liye hain aur ye tehreerein khol walo k liye ne humare asal k liye hain. Duaon ka talib Haider Miraj

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s